ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد: ایف اے ٹی ایف نے ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستان کے اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے اسے 4 ماہ کے لیے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، صدر فیٹف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا جاسکتا۔

ویب نیوز کے مطابق دنیا بھر میں ٹیررازم فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے امور پر نظر رکھنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کا 22 تا 25 فروری اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایف اے ٹی ایف پلینری میں پاکستان کے وفد کی سربراہی چیئرمین ایف اے ٹی ایف کوآرڈی نیشن کمیٹی و وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حمد اظہر نے کی جبکہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزارت خارجہ، نیکٹا، ایف ایم یو، قومی ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں اراکین ممالک نے پاکستان کی ترقی سے متعلق متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی جس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے مزید 4 ماہ کا وقت دے دیا۔

پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا، صدر ایف اے ٹی ایف

فیٹف کے صدر ڈاکٹر مارکس کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی اعلیٰ سطح پر یقین دہانی کرائی ہے، اس وقت پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا، 4 ماہ بعد پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی تصدیق کریں گے، دیکھیں گے کہ پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کتنا پائیدار ہے۔

سب سے مشکل پلان پاکستان کو دیا گیا، حماد اظہر

وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے سب سے مشکل اور جامع پلان پاکستان کو دیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے ٹیررازم فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور بہت سی خامیاں بھی دور کی ہیں، فیٹف نے ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کے سیاسی عزم کو بھی سراہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کیا، پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے جواب میں فیٹف نے اس عمل کو سراہا ہے اور گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بقیہ تین نکات پر عمل درآمد کے لیے جون تک کا وقت دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں